جمعہ 23 جنوری 2026 - 20:41
جو بچہ اپنے باپ سے پیار نہیں کرتا، وہ باپ کے دین سے بھی پیار نہیں کر سکتا

حوزہ/ باپ کو اپنی اولاد کا پہلا دوست ہونا چاہیے۔ اس باپ کی بد بختی ہے جو اپنے بچے کا دوسرا دوست ہو۔ تم جانتے ہو یہ بچہ کیا کرتا ہے؟ جو کچھ بھی اس کے باپ سے سنتا ہے، وہ اپنے پہلے دوست کے پاس لے جاتا ہے۔ اگر وہ دوست اس کی تائید کر دے تو مان لیتا ہے، ورنہ نہیں مانتا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم آیت اللہ حائری شیرازی نے اپنی ایک گفتگو میں "اپنے بچوں کے پہلے دوست بنیں" کے موضوع پر توجہ دلائی تھی، جو ہم آپ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں۔

اگر بچہ اپنے باپ سے صرف خوف یا ادب کی وجہ سے بیٹھ جائے، کوئی فائدہ نہیں رکھتا۔ باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچے کا دوست بنے، اس کا ساتھی بنے۔

اسے اپنے قریب رکھے، اس سے بات کرے۔ دل میں بات نہ چھپائے۔ باپ کو اپنے بچے کا پہلا دوست ہونا چاہیے۔ اور اس باپ کے لیے تباہی ہے جو اپنے بچے کا دوسرا دوست ہو۔

جانتے ہو یہ بچہ کیا کرتا ہے؟ جو کچھ بچہ اپنے باپ سے سنتا ہے، وہ لے جا کر اپنے اصل دوست (پہلے رفیق) سے پوچھتا ہے۔ اگر وہ دوست مان لے تو بچہ مانتا ہے، ورنہ نہیں مانتا۔

آپ گھر میں ایک پنگ پانگ (ٹیبل ٹینس) کا میز رکھیں۔ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ پنگ پانگ کھیلیں۔ جگہ بھی زیادہ نہیں لیتی۔ بس اسی پنگ پانگ کے کھیل کے ذریعے آپ اپنے بچے کی تربیت کر سکتے ہیں۔

پنگ پانگ کے ذریعے ہی اسے نماز پڑھنا سکھائیں۔ اپنے ساتھ محبت کی وجہ سے وہ آپ کا دیوانہ ہو جائے، اور کہے: "ابا، میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا۔" جب آپ کہیں کہ "نماز پڑھنے جا رہا ہوں"، وہ کہے گا: "میں بھی آ رہا ہوں۔" اگر بچہ اپنے باپ سے محبت نہیں کرے گا، تو باپ کے دین سے بھی محبت نہیں کرے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha